صحیح بخاری 1454 کی جدول

مویشیوں پر زکوٰۃ کیلکولیٹر – بکری، بھیڑ، گائے، بھینس اور اونٹ

اپنے ریوڑ کی تعداد درج کریں اور جانیں کون سا اور کتنے جانور زکوٰۃ میں دینے ہیں، فیصد نہیں بلکہ جانور کی صورت میں۔ چراگاہ میں چرنے والے (سائمہ) اور چارہ کھانے والے (معلوفہ) جانوروں کا فرق، کام کرنے والے جانوروں کا استثنا اور مسلک کے مطابق نتیجہ۔

زکوٰۃ تب واجب ہے جب جانور پورا قمری سال نصاب سے اوپر رہیں۔

حنفی: قیمت ادا کرنا جائز ہے

مویشیوں کی زکوٰۃ کا نصاب: صحیح بخاری 1454 کی جدول

ماخذ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نام خط، صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث 1454۔ یہ نصاب چاروں مسالک میں متفق ہیں؛ سائمہ کی شرط اور کام کرنے والے جانوروں میں فرق ہے۔

بکری اور بھیڑ (نصاب 40)

تعدادواجب

گائے اور بھینس (نصاب 30)

تعدادواجب

اونٹ (نصاب 5)

تعدادواجب

120 اونٹوں سے زیادہ: ہر 40 پر ایک بنتِ لبون اور ہر 50 پر ایک حِقّہ۔ 120 گائے سے زیادہ: ہر 30 پر ایک تبیع اور ہر 40 پر ایک مُسِنّہ۔ 300 بکریوں سے زیادہ: ہر 100 پر ایک بکری۔

سائمہ اور معلوفہ: پاکستان کے ڈیری فارم کا مسئلہ

شہر کے قریب ڈیری فارم کی بھینسیں عموماً خرید کر چارہ کھاتی ہیں، اس لیے وہ معلوفہ ہیں اور ان پر جانوروں والی زکوٰۃ نہیں۔ لیکن ان کا دودھ بیچ کر جو رقم جمع ہو اس پر نقد رقم کی زکوٰۃ ہے، اور اگر جانور خود بیچنے کے لیے پالے جائیں (بیوپار) تو وہ مالِ تجارت ہیں جن کی قیمت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ کاروباری کیلکولیٹر سے نکالیں۔ گاؤں کے وہ جانور جو سال کا بیشتر حصہ چراگاہ یا کھیتوں میں مفت چرتے ہیں، سائمہ ہیں اور ان پر یہاں والی جدول لاگو ہوتی ہے۔

مسلک کا فرق نتیجے پر

دیگر کیلکولیٹر

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کتنی بکریوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟
بکریوں اور بھیڑوں کا نصاب 40 ہے۔ 40 سے 120 تک ایک بکری، 121 سے 200 تک دو، 201 سے 300 تک تین، اور اس کے بعد ہر سو پر ایک بکری۔ 40 سے کم پر کچھ نہیں۔ یہ نصاب حضرت ابوبکر صدیق کے اُس خط سے ہے جو صحیح بخاری حدیث 1454 میں ہے۔
بھینسوں پر زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
بھینس گائے کے حکم میں ہے۔ نصاب 30 ہے: 30 سے 39 تک ایک تبیع (ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی)، 40 سے 59 تک ایک مُسِنّہ (دو سالہ)، 60 پر دو تبیع، پھر ہر 30 پر ایک تبیع اور ہر 40 پر ایک مُسِنّہ۔
سائمہ اور معلوفہ جانور میں کیا فرق ہے؟
سائمہ وہ جانور ہیں جو سال کا بیشتر حصہ چراگاہ میں مفت چرتے ہیں؛ انہی پر مویشیوں والی زکوٰۃ ہے۔ معلوفہ وہ ہیں جنہیں زیادہ تر خرید کر یا اپنی فصل کا چارہ ڈالا جاتا ہے، جیسے شہر کے ڈیری فارم کی بھینسیں؛ ان پر جانوروں والی زکوٰۃ نہیں، لیکن اگر فروخت کے لیے ہوں تو مالِ تجارت کی طرح قیمت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے۔
کیا ہل چلانے والے بیلوں پر زکوٰۃ ہے؟
حنفی، شافعی اور حنبلی مسلک میں کام کرنے والے جانور (ہل، باربرداری، آبپاشی) زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہ استعمال کی چیز ہیں، بڑھنے والا مال نہیں۔ مالکی مسلک میں ان پر بھی زکوٰۃ ہے۔ کیلکولیٹر میں مسلک منتخب کرنے سے یہ فرق خود لاگو ہو جاتا ہے۔
کیا جانور کے بجائے اس کی قیمت دی جا سکتی ہے؟
حنفی مسلک میں جائز ہے کہ واجب جانور کی بازاری قیمت رقم میں ادا کر دی جائے۔ دیگر مسالک میں اصل جانور یا اسی درجے کا جانور دینا ضروری ہے۔ کیلکولیٹر حنفی مسلک منتخب ہونے پر قیمت کا خانہ دکھاتا ہے۔