آج کا نصاب خودکار

نقد رقم اور بینک بیلنس پر زکوٰۃ کیلکولیٹر

ہاتھ کی نقد رقم، بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹ، کمیٹی کی جمع قسطیں، پرائز بانڈ، سیونگ سرٹیفکیٹ اور غیر ملکی کرنسی: سب ایک جگہ درج کریں۔ کیلکولیٹر آج کے نصاب سے موازنہ کر کے واجب زکوٰۃ بتاتا ہے اور بینک کی کاٹی ہوئی زکوٰۃ منہا کر دیتا ہے۔

1. کرنسی اور نصاب

2. آپ کی نقد رقم اور بچت

3. قرض اور بینک کی کٹوتی

نقد رقم پر زکوٰۃ کا نصاب کیسے کام کرتا ہے؟

نقد رقم کا اپنا کوئی الگ نصاب نہیں؛ اسے سونے یا چاندی کے نصاب کی قیمت سے ناپا جاتا ہے۔ پاکستان میں رائج حنفی مسلک کے مطابق چاندی کا نصاب (52.5 تولہ چاندی کی قیمت) معیار ہے کیونکہ یہ کم ہے اور اس طرح زیادہ لوگوں پر زکوٰۃ فرض ہو کر غریبوں تک پہنچتی ہے۔ نصاب کی رقم چاندی کی قیمت کے ساتھ روزانہ بدلتی ہے، اس لیے یہ صفحہ آج کی قیمت خود لے کر نصاب دکھاتا ہے۔

پاکستانی بینک کی کٹوتی: ہر سال یکم رمضان کو سیونگ اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کٹتی ہے، لیکن وہ صرف اسی اکاؤنٹ کے بیلنس پر ہوتی ہے۔ اپنی کل زکوٰۃ نکال کر بینک کی رقم منہا کریں؛ باقی خود ادا کریں۔ اگر آپ نے ڈیکلریشن (CZ-50) جمع کرا کر کٹوتی رکوائی ہوئی ہے تو پوری زکوٰۃ خود ادا کرنی ہے۔

کون سی رقم شامل ہوگی؟

دیگر کیلکولیٹر

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نقد رقم پر زکوٰۃ کا نصاب کتنا ہے؟
نقد رقم کے لیے حنفی مسلک میں چاندی کا نصاب معیار ہے: ساڑھے باون تولہ (612.36 گرام) چاندی کی آج کی قیمت۔ اگر آپ کی نقد رقم، بینک بیلنس اور دیگر مال مل کر اس قیمت تک پہنچ جائے اور قمری سال گزر جائے تو ڈھائی فیصد زکوٰۃ فرض ہے۔
کمیٹی (بی سی) کی رقم پر زکوٰۃ کیسے دیں؟
کمیٹی میں جو قسطیں آپ جمع کرا چکے ہیں اور ابھی وصول نہیں کیں وہ آپ کا قرض ہے جو دوسروں کے ذمے ہے، اس لیے وہ آپ کے مال میں شمار ہوں گی۔ اگر آپ کمیٹی وصول کر چکے ہیں تو باقی قسطیں آپ پر قرض ہیں اور اگلے سال کے اندر واجب الادا ہونے کی حد تک منہا کی جا سکتی ہیں۔
پرائز بانڈ اور سیونگ سرٹیفکیٹ پر زکوٰۃ ہے؟
جی ہاں، پرائز بانڈ اور قومی بچت کے سرٹیفکیٹ اصل رقم کی طرح ہیں، ان کی موجودہ قیمت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے۔ سود یا انعام کی رقم علما کے نزدیک بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دے دینی چاہیے۔
بینک نے یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹ لی ہے، اب کیا کروں؟
بینک صرف اُس اکاؤنٹ کے بیلنس سے ڈھائی فیصد کاٹتا ہے۔ اپنے پورے مال کی زکوٰۃ نکالیں اور بینک کی کاٹی ہوئی رقم اس میں سے منہا کر لیں۔ اگر آپ کا زکوٰۃ کا سال رمضان سے پہلے پورا ہوتا ہے تو اپنی تاریخ پر حساب لگائیں اور بینک کی کٹوتی کو اگلے سال کی پیشگی ادائیگی سمجھیں۔