آج کا نصاب خودکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر 2026 – پاکستانی روپے میں مکمل حساب

سونا (تولہ یا گرام)، چاندی، نقد رقم، بینک بیلنس، کمیٹی، شیئرز اور کاروبار: سب ایک جگہ درج کریں اور آج کے نصاب کے مطابق واجب زکوٰۃ فوراً معلوم کریں۔ حول ٹریکر ہجری تاریخ کے ساتھ، PDF رپورٹ اور واٹس ایپ شیئر شامل ہے۔

1. کرنسی، آج کی قیمتیں اور نصاب
2. نقد رقم، بینک اور کمیٹی
3. سونا اور چاندی

1 تولہ = 11.6638 گرام۔ زیورات کا وزن نگینوں کے بغیر لکھیں۔

4. سرمایہ کاری اور کاروبار
5. قرض اور پہلے سے ادا شدہ زکوٰۃ

یہ رقم آپ کی واجب زکوٰۃ میں سے منہا کر دی جائے گی۔

آپ کے اعداد صرف آپ کے براؤزر میں رہتے ہیں، ہمارے سرور پر کچھ نہیں جاتا۔

پچھلے سالوں کی ادا نہ کی گئی زکوٰۃ (تخمینہ)

اگر پچھلے سالوں کی زکوٰۃ رہ گئی ہے تو یہاں سالوں کی تعداد اور ہر سال کا اندازاً خالص مال درج کریں۔

یہ زکوٰۃ کیلکولیٹر کیسے کام کرتا ہے؟

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے اور اس کا حساب تین آسان قدموں میں ہوتا ہے۔ پہلے آپ کے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے جمع کیے جاتے ہیں: نقد رقم، بینک بیلنس، کمیٹی میں جمع رقم، سونے اور چاندی کی آج کی قیمت، شیئرز، مالِ تجارت اور وہ قرض جو دوسروں سے وصول ہونا ہے۔ پھر ان میں سے آپ کے فوری واجب الادا قرض منہا کیے جاتے ہیں۔ باقی رقم اگر نصاب کے برابر یا زیادہ ہو تو اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے۔

پاکستان کے لیے نصاب: حنفی مسلک کے مطابق جب سونا، چاندی اور نقد ملا جلا ہو تو 52.5 تولہ (612.36 گرام) چاندی کی قیمت نصاب ہے۔ یہ کیلکولیٹر روزانہ کی قیمت سے نصاب خود نکالتا ہے؛ اگر قیمت نہ مل سکے تو صرافہ بازار کی آج کی قیمت خود درج کر لیں۔

کن چیزوں پر زکوٰۃ نہیں؟

حول: زکوٰۃ کا سال کب شروع ہوتا ہے؟

جس دن آپ کا مال پہلی بار نصاب تک پہنچا وہ آپ کے زکوٰۃ کے سال کی تاریخ بن جاتی ہے۔ اگلے سال اسی ہجری تاریخ کو موجود مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، چاہے درمیان میں کم زیادہ ہوتا رہا ہو۔ بہت سے لوگ رمضان کی کوئی تاریخ مقرر کر لیتے ہیں تاکہ ہر سال یاد رہے۔ اوپر حول ٹریکر میں تاریخ محفوظ کریں تو یہ صفحہ آپ کو اگلی زکوٰۃ کی ہجری اور عیسوی تاریخ بتائے گا اور اگر مال نصاب سے نیچے چلا جائے تو سال کو دوبارہ شروع کر دے گا۔

دیگر کیلکولیٹر

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پاکستان میں زکوٰۃ کا نصاب کتنا ہے؟
نصاب کے دو معیار ہیں: ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (612.36 گرام) چاندی۔ پاکستان میں رائج حنفی مسلک کے مطابق جب کسی کے پاس نقد، سونا اور چاندی ملا جلا مال ہو تو چاندی کے نصاب کی قیمت معیار ہوتی ہے، جو آج کی قیمت کے حساب سے یہ کیلکولیٹر خود بتا دیتا ہے۔
زکوٰۃ کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے؟
اپنے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے (نقد، بینک بیلنس، سونا چاندی کی قیمت، مالِ تجارت، شیئرز) جمع کریں، ان میں سے فوری واجب الادا قرض منہا کریں۔ اگر باقی رقم نصاب کے برابر یا زیادہ ہو اور اس پر قمری سال گزر چکا ہو تو اس کا ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ ہے۔
بینک نے یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹ لی تو کیا دوبارہ دینی ہوگی؟
پاکستانی بینک سیونگ اکاؤنٹ سے جو رقم زکوٰۃ کے نام پر کاٹتے ہیں وہ صرف اُس اکاؤنٹ کے بیلنس پر ہوتی ہے۔ اپنی کل زکوٰۃ کا حساب لگا کر بینک کی کاٹی ہوئی رقم اس میں سے منہا کر لیں؛ یہ کیلکولیٹر اس کے لیے الگ خانہ رکھتا ہے۔ باقی رقم خود ادا کریں۔
حول یا قمری سال کیا ہے اور زکوٰۃ کی تاریخ کیسے طے ہو؟
جس دن آپ کا مال پہلی بار نصاب تک پہنچا، وہ آپ کے زکوٰۃ کے سال کا آغاز ہے۔ اگلے سال اسی ہجری تاریخ کو جو مال آپ کے پاس ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اگر درمیان میں مال بالکل ختم ہو جائے یا نصاب سے نیچے آ جائے تو سال دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ اس صفحے کا حول ٹریکر آپ کو ہجری اور عیسوی دونوں تاریخیں بتاتا ہے۔
اگر پچھلے کئی سال زکوٰۃ نہیں دی تو اب کیا کریں؟
ہر گزرے ہوئے سال کی زکوٰۃ اُس سال کے مال کے حساب سے ادا کرنا فرض ہے، یہ قرض کی طرح ذمے پر باقی رہتی ہے۔ اگر ہر سال کا مال یاد نہ ہو تو غالب گمان سے اندازہ لگائیں۔ اس صفحے پر پچھلے سالوں کا تخمینہ لگانے کا الگ حصہ موجود ہے۔