چاندی پر زکوٰۃ کیلکولیٹر – ساڑھے باون تولہ نصاب
چاندی کے زیورات، برتن، سکے یا سجاوٹ کی چیزیں: کل وزن اور خالصیت درج کریں، کیلکولیٹر آج کی قیمت لگا کر 612.36 گرام نصاب سے موازنہ کرتا ہے اور واجب زکوٰۃ رقم اور گرام دونوں میں بتاتا ہے۔
چاندی پر زکوٰۃ کا نصاب کیسے کام کرتا ہے؟
چاندی کا نصاب 200 درہم ہے جو آج کے وزن میں ساڑھے باون تولہ یا 612.36 گرام خالص چاندی بنتا ہے۔ چاندی کی قیمت سونے سے بہت کم ہے، اس لیے یہ نصاب رقم میں کم بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی علما نقد رقم اور ملے جلے مال کے لیے چاندی کے نصاب کو معیار بناتے ہیں تاکہ زیادہ لوگ زکوٰۃ ادا کریں اور غریبوں کو زیادہ فائدہ پہنچے۔
خالصیت کا خیال رکھیں: پاکستان میں چاندی کے زیورات اکثر خالص نہیں ہوتے۔ اگر زیور پر 925 لکھا ہو تو خالصیت 92.5 فیصد درج کریں۔ کیلکولیٹر صرف خالص چاندی کے وزن پر حساب لگاتا ہے۔
واجب زکوٰۃ چاندی کی شکل میں
اگر آپ چاندی ہی دینا چاہیں تو کل خالص چاندی کا چالیسواں حصہ (2.5 فیصد وزن) دیں۔ نتیجہ آپ کو رقم اور گرام دونوں میں دکھایا جاتا ہے۔ آج کی فی گرام قیمت روزانہ اپڈیٹ ہوتی ہے؛ اگر خودکار قیمت نہ ملے تو صرافہ بازار کی قیمت خود درج کریں۔
دیگر کیلکولیٹر
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
چاندی کا نصاب کتنا ہے؟
چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام خالص چاندی ہے۔ حنفی مسلک میں یہی نصاب نقد رقم اور ملے جلے مال کے لیے بھی معیار ہے کیونکہ یہ کم قیمت ہے اور اس سے زیادہ لوگوں کی زکوٰۃ غریبوں تک پہنچتی ہے۔
چاندی کے برتنوں اور سجاوٹ کی چیزوں پر زکوٰۃ ہے؟
جی ہاں۔ چاندی چاہے زیور ہو، برتن ہو، سکے ہوں یا سجاوٹ کی چیزیں، سب کا وزن جمع کر کے اگر نصاب تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ فرض ہے۔ اگر چیز میں چاندی کے علاوہ دوسری دھات ملی ہو تو صرف چاندی کے حصے کا وزن لیا جائے گا۔
اگر چاندی نصاب سے کم ہو لیکن ساتھ سونا یا نقد بھی ہو؟
حنفی مسلک کے مطابق چاندی، سونا اور نقد رقم سب کو ملا کر دیکھا جاتا ہے۔ اگر ان سب کی مجموعی قیمت 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا زیادہ ہو تو سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اس کے لیے مکمل زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں یا یہاں دیگر مال کا خانہ بھریں۔