من اور کلو دونوں میں

عشر کیلکولیٹر – زرعی پیداوار پر زکوٰۃ

گندم، چاول، مکئی، گنا، کپاس یا پھل: فصل کی پیداوار من یا کلو میں اور فی من قیمت درج کریں۔ بارانی زمین پر دسواں حصہ، ٹیوب ویل یا نہری زمین پر بیسواں حصہ۔ عشر آپ کو جنس (من) اور رقم دونوں میں ملے گا۔

1. کرنسی، نصاب اور اکائی

2. فصل کی پیداوار (کٹائی کے بعد، صاف کی ہوئی)

شرح: 10%

شرح: 5%

شرح: 7.5%

اگر رقم میں عشر دینا ہو تو کٹائی کے وقت کی منڈی کی قیمت لکھیں۔

عشر کا نصاب اور شرح کیسے کام کرتی ہے؟

قرآن میں کھیتی کی پیداوار سے کٹائی کے دن حق ادا کرنے کا حکم ہے اور حدیث میں شرح بیان ہوئی ہے: جو زمین آسمان کے پانی، دریا یا چشمے سے سیراب ہو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ، اور جو زمین اونٹ یا مشین سے پانی کھینچ کر سیراب ہو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ۔ پاکستان میں بارانی علاقوں (پوٹھوہار، بلوچستان کے کچھ حصے) کی فصل پر 10 فیصد اور نہری یا ٹیوب ویل والی زمین کی فصل پر 5 فیصد عشر ہے۔ نہر کا آبیانہ ادا کرنا بھی خرچ ہے، اس لیے اکثر علما نہری زمین کو 5 فیصد میں رکھتے ہیں۔

نصاب: جمہور کے نزدیک پانچ وسق (تقریباً 653 کلو یا سوا سولہ من) سے کم پیداوار پر عشر نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہر مقدار پر عشر ہے۔ اوپر دونوں آراء منتخب کی جا سکتی ہیں۔ عشر پر قمری سال گزرنا شرط نہیں؛ ہر فصل پر الگ عشر ہے۔

کس پیداوار پر عشر ہے؟

دیگر کیلکولیٹر

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

عشر کیا ہے اور کتنا دینا ہوتا ہے؟
عشر زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔ جو زمین بارش، دریا یا چشمے کے پانی سے سیراب ہو اس کی پیداوار کا دسواں حصہ (10 فیصد) اور جو ٹیوب ویل، نہر کے آبیانے یا خرید کر پانی سے سیراب ہو اس کا بیسواں حصہ (5 فیصد) دیا جاتا ہے۔ اگر دونوں طرح پانی لگے تو جس کا غلبہ ہو اس کا حکم ہے، اور برابر ہونے پر 7.5 فیصد۔
عشر کا نصاب کتنا ہے؟
جمہور علما اور امام ابو یوسف و امام محمد کے نزدیک نصاب پانچ وسق ہے جو تقریباً 653 کلوگرام (سوا سولہ من) بنتا ہے؛ اس سے کم پیداوار پر عشر نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک پیداوار پر کوئی نصاب نہیں، تھوڑی ہو یا زیادہ عشر واجب ہے۔ یہ کیلکولیٹر دونوں آراء دکھاتا ہے۔
کیا کھاد، بیج اور مزدوری کے اخراجات منہا ہوں گے؟
حنفی مسلک اور جمہور کے مطابق پیداوار کے اخراجات منہا نہیں ہوتے، کیونکہ آبپاشی کی محنت کا لحاظ پہلے ہی شرح کم کر کے (5 فیصد) کر لیا گیا ہے۔ کچھ علما کھاد اور بیج کا خرچ منہا کرنے کی اجازت دیتے ہیں؛ احتیاط پوری پیداوار پر عشر دینے میں ہے۔
کیا عشر پر قمری سال گزرنا ضروری ہے؟
نہیں۔ عشر فصل کٹنے کے وقت ہی واجب ہو جاتا ہے، اس پر سال گزرنا شرط نہیں۔ اگر سال میں دو فصلیں ہوں تو ہر فصل کا عشر الگ الگ دیا جائے گا۔ عشر جنس کی شکل میں (گندم، چاول) یا اس کی قیمت میں دونوں طرح دیا جا سکتا ہے۔