آج کا نصاب خودکار

کاروبار اور مالِ تجارت پر زکوٰۃ کیلکولیٹر

دکان کا اسٹاک، خام مال، تیار مال، گاہکوں پر ادھار اور کاروباری بینک بیلنس درج کریں؛ سپلائر کا قرض اور واجبات منہا ہوں گے۔ شراکت داری میں اپنا حصہ فیصد میں لکھیں اور اپنی زکوٰۃ فوراً معلوم کریں۔

1. کرنسی اور نصاب

2. کاروباری اثاثے (زکوٰۃ کے دن کی قیمت پر)

3. واجبات اور شراکت داری

کاروبار پر زکوٰۃ کا نصاب اور طریقہ

مالِ تجارت وہ ہر چیز ہے جو بیچنے کی نیت سے خریدی گئی ہو: دکان کا سامان، کپڑا، موبائل، گاڑیاں اگر بیچنے کے لیے ہوں، خام مال اور تیار مال، اور فروخت کی نیت سے لیے گئے پلاٹ۔ ان سب کی زکوٰۃ کے دن کی بازاری قیمت میں کاروباری نقدی اور وصول طلب ادھار ملایا جاتا ہے، پھر سپلائر کا قرض اور واجبات منہا کیے جاتے ہیں۔ باقی رقم اگر نصاب (حنفی: 52.5 تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچے تو اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے۔

جس پر زکوٰۃ نہیں: دکان کی عمارت، مشینری، فرنیچر، کمپیوٹر، ڈیلیوری گاڑی، اور وہ سامان جو کاروبار چلانے کے لیے ہو، بیچنے کے لیے نہیں۔ منافع الگ سے شمار نہیں ہوتا؛ وہ جس شکل میں موجود ہے (نقد یا اسٹاک) اسی میں شامل ہو جاتا ہے۔

اسٹاک کی قیمت کیسے لگائیں؟

خرید کی قیمت نہیں بلکہ زکوٰۃ کے دن جس قیمت پر آپ پورا مال تھوک میں بیچ سکتے ہیں وہ لگائیں۔ ایک بار سال کی کوئی تاریخ مقرر کر لیں، مثلاً یکم رمضان یا آپ کے مالی سال کا اختتام، اور ہر سال اسی تاریخ پر اسٹاک گن کر قیمت لگائیں۔ اوپر حول ٹریکر آپ کو اگلی تاریخ ہجری اور عیسوی میں یاد دلاتا ہے۔

دیگر کیلکولیٹر

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

دکان کے مال کی زکوٰۃ خرید کی قیمت پر ہو گی یا فروخت کی؟
مالِ تجارت کی زکوٰۃ زکوٰۃ کے دن کی بازاری قیمت پر ہوتی ہے، یعنی جس قیمت پر آپ وہ مال تھوک میں بیچ سکتے ہیں۔ خرید کی پرانی قیمت معیار نہیں۔ اس لیے سال پورا ہونے کے دن اپنے اسٹاک کی موجودہ قیمت لگائیں۔
کیا دکان، مشینری اور گاڑی پر زکوٰۃ ہے؟
نہیں۔ جو چیزیں کاروبار چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور بیچنے کے لیے نہیں، جیسے دکان کی عمارت، مشینری، فرنیچر، کمپیوٹر اور ڈیلیوری گاڑی، ان پر زکوٰۃ نہیں۔ زکوٰۃ صرف اُس مال پر ہے جو بیچنے کے لیے ہو، نقد رقم اور وصول طلب ادھار پر۔
گاہکوں پر جو ادھار ہے اس پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
جو ادھار وصول ہونے کی امید ہو وہ آپ کے مال میں شامل ہوگا۔ جو ادھار ڈوب چکا ہو یا وصولی کی امید نہ ہو اسے شامل نہ کریں؛ اگر بعد میں وصول ہو جائے تو اُس وقت اس پر زکوٰۃ دے دیں۔
شراکت داری میں زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟
ہر شریک اپنے حصے کے بقدر زکوٰۃ دیتا ہے۔ پورے کاروبار کا خالص قابلِ زکوٰۃ مال نکال کر اس میں اپنے حصے کا فیصد لگائیں؛ یہ کیلکولیٹر شراکت داری کا خانہ رکھتا ہے۔ کچھ کاروبار کمپنی کی سطح پر پوری زکوٰۃ ادا کر دیتے ہیں، اس صورت میں شریک دوبارہ نہیں دیتا۔